والدین کی خدمت اور ان کے حقوق
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ یہ ترتیب خود بتاتی ہے کہ والدین کا مقام کتنا بلند ہے، اور ان کی خدمت محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ دین کا اہم حصہ ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی نے پوچھا کہ سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا حقدار کون ہے، تو آپ نے تین بار "تمہاری ماں" اور چوتھی بار "تمہارا باپ" فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدہ کی خدمت میں کچھ زیادہ ہی نرمی اور توجہ درکار ہے۔
بڑھاپے میں والدین کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، اور ان کے لیے دعا کرنا، یہ سب چھوٹی چھوٹی عادتیں ہیں جو مل کر ایک بڑی نیکی بن جاتی ہیں۔ اکثر یہی معمولی سی توجہ والدین کے دل کو سب سے زیادہ خوش کرتی ہے۔
طالبات کو چاہیے کہ اپنی تعلیم اور دین کے سیکھنے کے ساتھ ساتھ والدین کی خدمت کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں، کیونکہ والدین کی رضا اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔